Saturday, October 11, 2014

ہپناتزم کیا ہے؟?What Is Hypnotism

0 comments


بسم اللہ الرحمٰن لرحیم۔

بہت سے لوگوں کی اکثریت ہپنا ٹزم کے نام سے واقف اور شائق ہیں اس کے اثرات کے قائل بھی ہیں بہت سے دوست ہپنا ٹزم سیکھنے کا شوق بھی رکھتے ہوں گے مگر مناسب راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک تِشنہ لب ہی ہوں گے۔

میری کوشش ہوگی کہ آپ تک وہی باتیں پہنچاؤں جو میرے ذاتی تجربات اور مشاہدات میں سے ہیں تاکہ اگر کوئی یہ علم سیکھنا بھی چاہے تو اسے کسی قسم کی پریشانی یا ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ اس تحریر میں درج مشقوں کی مدد سے بغیر کسی نقصان کے کوئی بھی شخص اس علم کو سیکھ سکتا ہے اور کسی کی محنت بھی رائیگاں نہیں جائے گی انشااللہ کیونکہ یہ ذہن کی ورزش بھی ہے ان ورزشوں سے انسان میں بہت سی ذہنی بیماریوں اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس کے بے شمار فوائد ہیں۔

لفظ ہپنا ٹزم مغرب والوں کی ایجاد ہے ہپنا ٹزم کے لفظی معنی غنودگی کے ہیں یعنی نیند جیسی حالت کیونکہ جب کسی کو ہپنا ٹائز کیا جاتا ہے تو اس شخص پر مصنوعی نیند طاری کر کے اپنے پیغام کو اس شخص کے دل و دماغ تک پہنچایا جاتا ہے جس شخص کو ہپنا ٹائز کیا جاتا ہے وہ شخص ہپناٹسٹ کے پیغام کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

ہپنا ٹائز شدہ شخص کو جو بھی پیغام غنودگی کی حالت میں دیا جاتا ہے عام حالت میں آکر ہپنا ٹائز شدہ شخص نے جو پیغام دورانِ غنودگی حاصل کیا ہو اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ پیغام کسی بھی نوعیت کا ہو ہپنا ٹائز شدہ شخص ہپناٹسٹ کے پیغام پر ہر صورت عمل کرے گا اور مزے کی بات یہ کہ ہپنا ٹائز شدہ شخص کو بالکل بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ کیونکر یہ کام کر رہا ہے۔ اس علم سے انسان اپنی اور دوسروں کی اصلاح بھی کر سکتا ہے بےشمار بیماریوں کا علاج بھی ہپنا ٹائز سے ممکن ہے۔

مغرب والوں نے اس علم پر بہت کام کیا اور وہاں تو ہپنا ٹزم سیکھنے کے باقاعدہ ادارے بنے ہوئے ہیں اور مغرب والے اس علم پر اعتماد بھی کرتے ہیں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ علم مغرب والوں نے ایجاد کیا مگر میرے نزدیک ہپنا ٹزم اسلامی روحانی تعلیمات کے تناور درخت مراقبہ کی ایک ادنیٰ سی شاخ ہیں مغرب والوں نے صرف اس کو مذہب سے الگ کر کے ایک سائنسی رنگ دیا ہے۔

مگر میں مذہب اور ہپنا ٹزم کو ساتھ ساتھ رکھوں گا تاکہ اس علم کو سیکھنے والا قاری مخصوص طریقے سے اسم الحسنیٰ کا ورد کرتا رہے تاکہ اس طریقے سے دنیاوی کامیابی کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنور جائے اور دل و دماغ بھی پر سکون رہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ترجمہ: بےشک دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔

ہپنا ٹزم سیکھنے کے لیے دلی اطمینان اور ذہنی سکون کی اشد ضرورت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حاصل کیا جا سکتا ہے ہپنا ٹزم سیکھنے کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔
اول: قوتِ ارادی
دوئم: قوتِ خیال
سوئم: قوتِ تصور

اگر کوئی بھی انسان ان تین چیزوں پر تصرف حاصل کر لے تو اس انسان سے ایسے ایسے محیرا لعقول واقعات رونما ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا انگشت بدنداں رہ جاتا ہے اس کے برعکس اگر کسی انسان میں ان تین چیزوں کا فقدان ہے تو ایسا شخص ماورائی علوم تو ایک طرف بلکہ عملی زندگی میں بھی کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔

قوتِ رادی قوتِ خیال قوتِ تصور کیا ہے اور یہ قوتیں کیسے اور کس طرح حاصل کی جا سکتی ہیں اور انسان اپنی اندرونی طاقتوں کو کیسے بروئے کار لاسکتا ہے اور ان سے کن کن کاموں میں اور کیسے مدد لی جا سکتی ہے۔ انشا اللہ آئندہ کالم میں تحریر میں لانے کی کوشش کروں گا۔

Tuesday, October 7, 2014

ایک ہفتے میں 6کلو وزن کم کرنے کے آسان طریقے......Ten Ways To reduce Belly FAT

0 comments

)بعض اوقات ہمیں وزن کم کرنے کا آسان اور کم مدت فارمولہ چاہیے ہوتا ہے جو آسان بھی ہو کیوں کہ آپ جلد ہی کسی ایسے موقع میں شرکت کرنے والے ہوتے ہیں جہاں آپ سلم اور سمارٹ دکھائی دینا چاہتے ہیں۔ حسب ذیل غذا ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو کم وقت میں وزن کم کرنا چاہتے ہیں اور یہ غذا ڈاکٹروں کی تجویز کردہ بھی ہے۔ اس کو استعمال کرکے آپ اپنے آپریشن سے پہلے ایک ہفتہ میں وزن گھٹا سکتے ہیں۔ یہ ایک کیمیکل غذا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس میں ایسی اجزاءشامل ہیں جو وزن کم کرنے میں معاون ہیں اور ایک دوسرے مل کر رد عمل پیدا کرتے ہیں۔ اگر آپ اس پر عمل پیرا ہوں تو ایک ہفتے میں 6کلو وزن کم کرسکتے ہیں اور زیادہ کھانے پر وزن بڑھے گا بھی نہیں اور اگر آپ اپنے صحت کی مکمل اور ہالنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ غذا آپ کو ایک اچھا آغاز دے سکتی ہے۔ جب پچھلے ہمارے ایک دوست نے ہمیں یہ ڈائیٹ دی تو ہم نے اس کا تجربہ کرکے دیکھا یہ کام کرتی ہے۔ لیکن انتباہ ایک لفظ جو بظاہر مشکل اور انڈوں پر بہت پاگل پن دکھائی دے گا لیکن اگر آپ نے اسے جاری رکھا تو یہ فوری نتائج حاصل کرنے کا موجب ہوگا۔
وزن کم کرنے کے اصول حسب ذیل ہیں۔
اگرآپ اس غذا کو ایک ہفتہ استعمال کرتے ہیں تو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے کم از کم دو ہفتے کا وقفہ دیں۔
٭الکحل والے کسی مشروب کی اجازت نہیں۔
٭غذا میں لکھی ہوئی چیزوں کے علاوہ سب کچھ منع ہے۔
٭کوئی متبادل غذا نہیں۔
٭مکھن دودھ اور چربی کا استعمال ممنوع ہے۔
٭جو کچھ بتایا جائے وہی کھائیں۔
٭مشروبات میں چائے، کافی لیمن ٹی، انگور کا رس ٹانک واٹر اور سوڈا کے علاوہ عام پانی جو آپ کی بھوک کو کم کرے گا کے علاوہ کچھ نہ پیا جائے۔
٭سلا د میں صر ف ٹماٹر،سلاد کے پتے کھیرا اور اجوائن کے علاوہ کچھ نہ کھایا جائے۔
٭چینی کی ہر قسم سے مکمل پرہیز۔
اگر آپ تیار ہیں تو سات روزہ ڈائٹ پلان حاضر خدمت اللہ آپ کی مدد کرے۔پہلا دن:©
ناشتے میں صبح ایک سوکھے ڈبل روٹی کا پیس بھنے ہوئے ٹماٹر کے ساتھ۔دوپہر کے کھانے میں تازہ پھلوں کا سالاد جو پھل آپ کو پسند ہوئے لیجیے۔ جتنا جی چاہے کھائیں لیکن ایک ہی نشست میں مت کھائیں۔
رات کے کھانے میں دو ابلے ہوئے سخت انڈے سالاد اور چکوترہ۔ یاد رہے کہ یہ پہلا دن انتہائی شکل ہوگا لیکن آگے چل کر آسانی ہوگی۔
دوسرا دن:
ناشتے میں چکوترہ اور ایک ابلا انڈہ دوپہر کے کھانے میں بھنا ہوا مرغی کا گوشت حسب منشا  سلاد کے ساتھ۔ رات کے کھانے میں بھنا ہوا گوشت کا ٹکڑا اور سالاد۔ اب آپ کل سے بہتر محسوس کریں۔
تیسرا دن:
ناشتے میں چکوترا اورایک ابلا انڈا جبکہ دوپہر کے کھانے میں دو ابلے انڈے اور ٹماٹر رات کے کھانے میں بھیڑ کے گوشت بھنے ہوئے تتلے۔ اجوائن اور کھیرا۔
چوتھا دن:
ناشتے میں ایک سلائس اور 2انڈے دوپہر کے کھانے میں تازہ پھلوں کا سلاد کوئی پھل جس قدر بھی آپ سے کھایا جائے کھائیں۔ رات کے کھانے میں ٹھوس ابلے انڈے دو عدد سلاد اور چکوترے کے ساتھ۔
پانچواں دن:
ایک سوکھا سلائس اور دو ابلے ہوئے انڈے۔ دوپہر کے کھانے میں دو ابلے ہوئے انڈے ٹماٹروں کے ہمراہ کھائیں جبکہ رات کے کھانے میں تازہ یا ٹین پیک مچھلی سلاد کے ہمراہ لیں۔
چھٹا دن:
ایک ابلا انڈا ناشتے میں کھا کر ایک گلاس چکوترے کا جوس نوش فرمائیں۔ جبکہ دوپہر کے کھانے میں تازہ پھلوں کا سلاد حسب منشا اور رات کو روسٹ چکن گوبھی کے پتے اور گاجریں۔
ساتواں دن:
ناشتے میں دو انڈے اور بھنے ہوئے ٹماٹر جبکہ دوپہر کے کھانے میں دو ابلے انڈے اور پالک۔ رات کے کھانے میں بھنے ہوئے گوشت کے قتلے اور سلاد۔

Monday, October 6, 2014

نفسیاتی مسائل اور ان کا حل

0 comments


Friday, October 3, 2014

ذہنی تنائودور کرنے کا قدرتی طریقہ

0 comments

ذہنی تنائوایک ایسا مرض ہے، جو بعض اوقات انسان کو مجبور اور بے بس بنا دیتا ہے۔ اس مرض کے علاج کیلئے جہاں تھراپی کا نظام موجود ہے، وہاں مارکیٹ میں متعدد ادویات بھی موجود ہیں، لیکن ذہنی تنائو کی کیفیت ہر شخص پر مختلف انداز میں اثر انداز ہوتی ہے۔ کسی ایک شخص کی تشخیص بالکل لفظ بہ لفظ کسی دوسرے پر صادق نہیں آ سکتی، مگر رویے، سوچ اور روزمرہ کے امور میں کچھ تبدیلی لا کر ہر قسم کے ذہنی تنائو سے قدرتی طور پر نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ ڈپریشن کے علاج کے لئے مندرجہ ذیل چند قدرتی طریقے اپنائیں۔ -1روزمرہ کے امور کو انجام دینے کے لیے خود کو پابندی کی عادت ڈالیں۔ -2 روزانہ اپنے مقاصد کا تعین کریں اور چھوٹے مقصد کے حصول سے شروعات کریں۔ -3 ورزش انسانی دماغ کو تروتازہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس سے ڈپریشن کا مسئلہ خود بخود حل ہوتا چلا جاتا ہے۔ -4ڈپریشن کے شکار مریض ایسی خوراک کھائیں جس میں اومیگا3ہو جیسے مچھلی وغیرہ‘‘۔

Thursday, October 2, 2014

اف یہ بیویاں.....................Ufffffffff Ye Biviyaan

0 comments


ادھ پکی کھچڑی ہے نوش فرمائیں گے کیا 
توبہ خالی پیٹ ہی دفتر چلے جائیں گے کیا

چائے میں لہسن کی بو آگئی ہے تو کیا ہوا
اللہ اللہ آپ ماں بہن پر اتر آئیں گے کیا

دودھ میں مکھی تھی چوہا تو نہیں تھا حضور
ہاتھ دھو کر پیچھے ہی پڑ جائیں گے کیا

جل گئی ہیں ساری روٹیاں تو کیا ہوا
آپ ایک نوالہ تک منہ میں نہ لے جائیں گے کیا

نیم کے پتوں کی چٹنی توس پر کیا مل کے دوں
یہ بھی اگر کھاتے نہیں تو اور پھر کھائیں گے کیا

گھر میں آٹے کی سویاں تھی وہ بھی بکری کھاگئی
بُھٹے کی داڑھی سویاں جان کے کھائیں گے کیا

پیاز کا حلوہ بنادوں ذرا رک جائیے
بھوکے رہ کر میری ناک کٹوائیں گے کیا

بدمزاجی حد سے گذری بندہ پرور کب تک
ہم کہیں گے کھائیے اور آپ کہیں کھائیں گے کیا​

Friday, September 26, 2014

مثبت اور منفی طرز فکر

0 comments
 
کمزور ذہن رکھنے والے، حساس اور اثر پذیر افراد درحقیقت ضعف ارادہ کے مارے ہوئے ہوتے ہیں، ان کی قوت ارادہ دو حصوں میں بٹ چکی ہوتی ہے، مثبت ارادہ اور منفی ارادہ۔ مثبت ارادہ یہ کہ میں صحیح طریقے پر زندگی بسر کروں، منفی ارادہ یہ کہ میں اپنی شخصیت کو تبادہ کردوں۔ اصولی طور پر ہر انسان کے اندر مثبت اور منفی ارادے کی جھلک پائی جاتی ہے۔

نفس انسانی کے بے شمار پہلو یا دریچے ہیں۔ نفس امارہ ہے جو ہمیں خواہشوں کی پیروی کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔ تمام اخلاقی عیوب (جھوٹ، حسد، حرص، خودغرضی، انسان دشمن، جنسی کج روی، تشدد، تند خوئی، حیوانیت) نفس امارہ کی ترغیب سے وجود میں آتے ہیں۔ ہم نفس امارہ کی ترغیب و تحریک سے جھوٹ بولتے ہیں، لیکن اس پر کسی نہ کسی وقت پچھتاتے بھی ہیں یہ پچھتانے کی کیفیت نفس لوامہ کے عمل سے طاری ہوتی ہے۔ نفس امارہ کا کام یہ ہے کہ وہ برائی کا راستہ دکھلائے۔ نفس لوامہ کا کام یہ ہے کہ وہ برائیوں پر ملامت کرے۔ مشہور نفسیات داں سگمنڈ فرائیڈ نے نفس امارہ اور نفس لوامہ کے بجائے اِڈ اور سپر ایگو کی اصطلاحیں ایجاد کی ہیں۔

اصطلاحوں میں الجھے بغیر تعمیر و تنظیم شخصیت کا بنیادی عمل یہ ہے کہ نفس امارہ (منفی ارادے) پر نفس لوامہ (ملامت کرنے والی قوت) کی گرفت کو مضبوط کرکے انسانی نفس کے اس اعلیٰ ترین حصے کو بروئے کار لایا جائے جسے قدیم علم النفس اور علم الاخلاق کی زبان میں ’’نفس ناطقہ‘‘ کہتے ہیں۔ نفس ناطقہ تمام عقل و دانش اور برتر اوصاف کا سرچشمہ ہے اور صرف انسان کے لیے مخصوص ہے۔ نفس ناطقہ کے سبب سے ہی انسان کو حیوان ناطق کہا جاتا ہے۔ حیوان میں نفس امارہ بھی ہوتا ہے، نفس لوامہ بھی، لیکن حیوان ناطق (انسان) نفس ناطقہ سے بھی آراستہ پیراستہ ہے، اور یہی اس کی فضیلت کی دلیل ہے۔

ہم انسان کے مثبت ارادے کو مضبوط بنانے، یعنی نفس لوامہ کو بروئے کار لانے کے لیے سانس کی مشقیں تجویز کرتے ہیں۔ انسانی نظام اعصاب کا سب سے بڑا مظہر سانس کا عمل ہے۔ ہماری دماغی اور ذہنی کیفیت کا سب سے پہلا اظہار سانس کی رفتار سے ہوتا ہے۔ شدید محویت کے عالم میں سانس کی رفتار دھیمی اور ہلکی ہوجاتی ہے اور ہیجان کی حالت میں سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگتا ہے۔ سانس کی مشق کا انسانی ذہن پر کیا اثر پڑتا ہے اور کیسے کیسے نادر تجربات ہوتے ہیں، اس کا اندازہ آپ کو ان تجربات سے گزرنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔

آپ نے تن سازی کا نام سنا ہوگا یعنی Body Building، جس میں مختلف مشقوں اور ریاضتوں اور داؤ پیچ کے ذریعے جسم کے رگ و پٹھوں کو مضبوط بنایا جاتا ہے۔ ملک بھر میں تن سازی یا باڈی بلڈنگ کے مختلف ادارے قائم ہیں اور فزیکل کلچر کے نام سے ایک تحریک ملک بھر میں چلائی جارہی ہے۔ پہلوانی اور تن سازی کی منظم تحریک کوئی نئی تحریک نہیں ہے، جب سے انسان اس کرۂ ارض پر موجود ہے وہ جسم کو مضبوط بنانے اور مردانگی، جوانمردی اور شہ زوری کی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتا رہا ہے۔

درحقیقت انسان کی پوری تاریخ ہی تن سازی اور تربیت جسم کے مختلف کارناموں پر مشتمل ہے۔ تن سازی کے دوش بدوش ذہن سازی کی تحریک بھی مختلف ناموں، مختلف عنوانوں اور مختلف مجاہدوں و ریاضتوں کے ذریعے دنیا کے ہر ملک میں رہی ہے، بلکہ ذہن سازی (سیلف کلچر ٹریننگ) کو تن سازی پر ہمیشہ بالادستی رہی ہے۔ کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ صرف ایک مضبوط، روشن اور توانا ذہن ہی طاقت ور جسم کو وجود میں لاسکتا ہے۔ آپ کا جسم مضبوط ہے مگر دماغ توانا نہیں، تو آپ ہاتھی، گھوڑے کی طرح ہیں کہ اتنے تن و توش کے باوجود یہ انسان ذہن کے محکوم ہیں۔

عام خیال یہ ہے کہ ہم مختلف ورزشوں کے ذریعے جسم کو مضبوط بناسکتے ہیں لیکن ذہن ایک ایسی خودمختار طاقت ہے کہ اسے اپنا محکوم نہیں بنایا جاسکتا۔ ذہن کو محکوم و مطیع بنانے کا مطلب کیا ہے؟ چند لفظوں میں اس کی وضاحت بھی کردی جائے۔ ذہن ایک ایسی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے جس پر ہمیشہ شعور کے مختلف قافلے اور مختلف لہریں ہماری مرضی اور ارادے کے بغیر رواں دواں رہتی ہیں۔ ہم میں یہ طاقت نہیں کہ ایک لمحے کے لیے بھی خیال کی کسی لہر کو روک سکیں۔ ذہنی عمل بڑا پیچیدہ عمل ہے۔

خیال یہ ہے کہ ایک سیکنڈ میں دو، یا ایک منٹ میں ایک سو بیس خیالات (جو ایک دوسرے سے گتھے ہوئے ہیں) ذہن سے گزر جاتے ہیں، اس کے معنی یہ ہیں کہ شعور ہر لمحہ حرکت اور جنبش میں رہتا ہے اور اس مسلسل حرکت اور لگاتار جنبش کے سبب بے شمار ذہنی توانائی خرچ ہوتی رہتی ہے۔ جسم کم قوت صرف کرتا ہے، ذہن زیادہ قوت صرف کرتا ہے۔ سائنسی تجربہ گاہوں میں جو ٹیسٹ کیے گئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ ایک گھنٹہ کی دماغی محنت چار گھنٹے تک پھاؤڑا چلانے، لکڑی چیرنے، بوجھ اٹھانے، ڈنڈ پیلنے، مگدر ہلانے اور بھاگ دوڑ میں جتنی توانائی صرف کرتے ہیں، ایک گھنٹے کی دماغی مشقت میں اتنی ہی یا اس سے زیادہ اعصابی توانائی خرچ ہوجاتی ہے۔

’’میں سوچتے سوچتے تھک گیا‘‘ یہ شاعرانہ فقرہ نہیں، حقیقت ہے اور جسمانی حقیقت۔ کردار سازی و تعمیر و تنظیم شخصیت کی ان مشقوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ شعور خیال اور توجہ کی فضول خرچی ختم کرکے ذہن کو بے دریغ اعصابی قوت کے اسراف سے روکا جائے اور انسانی ارادے کو اتنا مضبوط بنا دیا جائے کہ وہ جتنی دیر تک چاہے صرف ایک نقطے (Point) پر اپنی توجہ مرکوز رکھے، یعنی مشقوں کا بنیادی سبق ارتکاز توجہ (Concentration) کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ پریشان حال اور پراگندہ فکر آدمی زندگی کے کسی شعبے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، وہ ہمیشہ اپنے خیالوں، خوابوں اور تصورات کے جالے میں اسیر رہتا ہے۔ نفسیاتی صحت مندی کی بنیادی شرط ہے ارادے کی قوت۔

قوی ارادہ صرف اس وقت پیدا ہوسکتا ہے جب ہم ارتکاز توجہ کی قوت سے مالامال ہوں۔ جب ذہن پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ شدید ردعمل کا مظاہرہ کرتا ہے، اسی کو ’’لاشعوری مزاحمت‘‘ کہتے ہیں۔ نفسیاتی مریضوں میں یہ لاشعوری مزاحمت بے حد شدید ہوتی ہے، شخصیت دو حصوں میں بٹ جاتی ہے اور یہ دونوں حصے ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ نفسیاتی معالج بڑی نرمی، احتیاط اور سوجھ بوجھ کے ساتھ ترغیب و تلقین کے ذریعے رفتہ رفتہ ذہن کے دونوں کٹے ہوئے حصوں کے درمیان ’’حقیقت پسندی‘‘ کا پل بناتا ہے اور اس طرح جذباتی الجھنوں کے معقول حل کے راستے خودبخود پیدا ہوجاتے ہیں۔

شایان تمثیل

Tuesday, September 23, 2014

اوہ ہ ہ شِٹ!

0 comments


میاں بیوی بستر پر لیٹے سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ اچانک بیوی بولی 
بیوی: سنو ! کیا تم میرے مرنے کے بعد دوسری شادی کر لو گے ؟؟
شوہر: نہیں‌بیگم۔ تمہیں پتہ ہے میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ میں دوسری شادی نہیں کرونگا۔
بیوی: لیکن تم اتنی لمبی زندگی تنہا بھی تو نہیں‌گذار سکتے ۔ شادی تو تہمیں کرنا ہو گی
شوہر: دیکھا جائے گا ۔ اگر ضروری ہوا تو کر لوں گا!!
بیوی: (دکھ بھری آواز میں ) کیا تم واقعی دوسری شادی کر لو گے ؟
شوہر: بیگم ! ابھی تم خود ہی تو زور دے رہی تھی۔
بیوی: اچھا کیا تم اسے اسی گھر میں لاؤ گے ؟
شوہر: ہاں۔ میرا خیال ہے ہمارا گھر کافی بڑا ہے اور اسے یہیں رہنا ہو گا
بیوی: کیا تم اسے اسی کمرے میں رکھو گے
شوہر: ہاں کیونکہ یہی تو ہمارا بیڈ روم ہے
بیوی: کیا وہ اسی بیڈ پر سوئے گی
شوہر: بھئی بیگم ظاہر ہے اور کہاں سوئے گی
بیوی: اچھا کیا وہ میری جیولری استعمال کرے گی؟؟
شوہر: نہیں اس جیولری سے تمہاری سہانی یادیں وابستہ ہیں ۔ وہ یہ استمعال نہیں کرسکے گی
بیوی: اور میرے کپڑے ؟؟
شوہر: پیاری بیگم ! اگر مجھے شادی کرنا ہوئی تو وہ کپڑے بھی خود ہی لے کر آئے گی۔
بیوی: اور کیا وہ میری گاڑی بھی استعمال کرے گی ؟؟
شوہر: نہیں ۔ اسے گاڑی چلانا نہیں آتی۔ بہت دفعہ بولا لیکن وہ سیکھنا ہی نہیں چاہتی ۔
بیوی: کیاااااااااااااااااااااااااااااااااا ؟؟؟
شوہر: اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ شششٹ

Monday, September 22, 2014

کڑک روٹی!

0 comments

ڈاکٹر:آپ کے تین دانت کیسے ٹوٹے؟
مریض: وہ جی بیوی نے کڑک روٹی بنائی تھی۔
ڈاکٹر: تو کھانے سے انکار کر دیتے۔
مریض: جی وہی تو کیا تھا۔

بیوی کی ڈائری

0 comments
بیوی کی ڈائری 2006-10-10 
آج صبح میں نے اس سے (شوہر سے) شام 4 بجے باہر جا کر کافی پینے کا وعدہ کیا 
دفتر کے بعد اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کے لیے گئی تو کچھ دیر ہو گئی۔
مجھے احساس تھا کہ اسے انتظار کرنا گراں گذرتا ہے۔
لیکن میں نے سوچا سوری کر لوں گی۔
میں 15 منٹ لیٹ پہنچی تو وہ واقعی بہت پریشان دکھائی دے رہا تھا
میں نے سوری بولا اور اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کی وجہ بتائی۔
اس نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا۔
میں نے اسے کافی پینے کا وعدہ یاد دلایا۔ وہ جیسے بوجھل قدموں سے ساتھ ہو لیا۔
کافی ہاؤس میں بھی اسکی پریشانی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔
میں نے وجہ پوچھی تو جواب ملا “کچھ نہیں“
میں نے اعتراف کیا کہ غلطی میری ہی ہے۔ وہ خلا میں نظریں جمائے خاموش رہا۔
گھر واپس آتے ہوئے راستے میں میں نے اسکا ہاتھ دبا کر کہا “آئی لو یو“
پھر کوئی جواب نہیں۔
میں نے پوچھا “ڈارلنگ کیا تم بھی مجھ سے پیار کرتے ہو“
اس نے اقرار میں سر ہلا دیا۔ لیکن مجھے محسوس ہو گیا کہ یہ دکھاوا ہے۔
گھر پہنچ کر میں باتھ روم گئی۔ بیڈ روم میں آئی تو وہ کروٹ بدل کر سو چکا تھا۔
میں اکیلے بیٹھی دیر تک روتی رہی۔ 
اتنی چھوٹی سی غلطی میری زندگی کو جہنم بنا دے گی۔ کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی
اب تو زندگی کی ساری خوشیاں مٹتی نظر آ رہی تھیں۔
انہی اندھیروں کے خوف سے نہ جانے کب میں روتے روتے سو گئی۔
شوہر کی ڈائری 2006-10-10
آج پاکستان انڈیا کے خلاف فائنل ہا ر گیا۔
سارا دن بہت برا گذرا۔

Sunday, September 21, 2014

انٹرنیٹ کی رفتار کس طرح دُگنی کی جاسکتی ہے؟

0 comments

انٹرنیٹ کی رفتار کس طرح دُگنی کی جاسکتی ہے؟ میں نے یوٹیوب پر ڈبل اسپیڈ انٹرنیٹ کے بارے میں دیکھا ہے۔ کیا یہ واقعی ممکن ہے کہ ایک میگا بٹس کے انٹرنیٹ سے دو میگا بٹس کی رفتار حاصل کی جاسکے؟
........................................................................................

جواب:

انٹرنیٹ کی رفتار دُگنی یا بڑھانے کے حوالے سے کئے جانے والے دعوے جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان دعووں کا مقصد صرف توجہ اور زیادہ سے زیادہ وزٹرز حاصل کرنا ہوتا ہے۔ آپ اپنی ہی مثال لے لیجئے کہ انٹرنیٹ کی رفتار دُگنی کرنے کے لئے آپ نے یوٹیوب پر ویڈیو ملاحظہ کی۔ اکثر وائرس اور جان کا عذاب بن جانے والی ٹول بارز اسی طرح کے دعوے کرتی ہیں اور صارفین ان کے سبز باغ دیکھ کر جال میں پھنس جاتے ہیں۔
انٹرنیٹ کی جو رفتار (بینڈ وڈتھ) آپ کے انٹرنیٹ سروس پروائیڈر نے آپ کے لئے متعین کررکھی ہے، اس سے آپ تجاوز نہیں کرسکتے۔ یعنی اگر آپ نے ایک میگا بٹس کا کنکشن خرید رکھا ہے تو آپ اس سے کبھی بھی دو میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار حاصل نہیں کرسکتے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ان کمپنیوں کا کاروبار ہی بیٹھ جاتا!
البتہ کچھ ہدایات ایسی ہیں جن پر عمل کرکے آپ اپنے انٹرنیٹ کو زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کرسکتے ہیں۔ مثلاً جب آپ انٹرنیٹ استعمال کررہے ہوتے ہیں تو ونڈوز اپ ڈیٹ پیچز اور سکیوریٹی اپ ڈیٹس ڈائون لوڈ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جس سے آپ کے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہوسکتی ہے۔ اگر برائوزر اور سسٹم بذات خود سست رفتار ہوں تو انٹرنیٹ کی رفتار بھی سست محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے ٹیون اپ یوٹیلی ٹیز کی مدد سسٹم کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔
اگر آپ کے کمپیوٹر میں اسکائپ یا مسینجرز جیسی ایپلی کیشنز انسٹال ہیں تو یاد رکھیں، یہ سافٹ ویئر بھی انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال کرتے رہتے ہیں جو انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا ایک سبب ہوسکتی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ کی رفتار بہتر نہیں کیونکہ ٹورینٹس یا ڈائون لوڈنگ ویب سائٹس سے تیز رفتار سے ڈائون لوڈنگ نہیں ہورہی تو اس کی وجہ آپ کا انٹرنیٹ نہیں، بلکہ کچھ اور ہے۔ ڈائون لوڈنگ کی رفتار کو درجنوں چیزیں متاثر کرتی ہیں جن میں سے اکثر پر آپ کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ اس لئے اگلی بار جب آپ ایسا کوئی سافٹ ویئر دیکھیں جو کہ آپ کے انٹرنیٹ کی رفتار کو دُگنا کرنے کا دعویٰ کرے تو آپ اسے بالکل نظر انداز کردیں… ایسا قطعی ممکن نہیں!

یہ تحریر ماہنامہ کمپیوٹنگ سے لی گئی ہے۔