Friday, September 26, 2014

مثبت اور منفی طرز فکر

0 comments
 
کمزور ذہن رکھنے والے، حساس اور اثر پذیر افراد درحقیقت ضعف ارادہ کے مارے ہوئے ہوتے ہیں، ان کی قوت ارادہ دو حصوں میں بٹ چکی ہوتی ہے، مثبت ارادہ اور منفی ارادہ۔ مثبت ارادہ یہ کہ میں صحیح طریقے پر زندگی بسر کروں، منفی ارادہ یہ کہ میں اپنی شخصیت کو تبادہ کردوں۔ اصولی طور پر ہر انسان کے اندر مثبت اور منفی ارادے کی جھلک پائی جاتی ہے۔

نفس انسانی کے بے شمار پہلو یا دریچے ہیں۔ نفس امارہ ہے جو ہمیں خواہشوں کی پیروی کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔ تمام اخلاقی عیوب (جھوٹ، حسد، حرص، خودغرضی، انسان دشمن، جنسی کج روی، تشدد، تند خوئی، حیوانیت) نفس امارہ کی ترغیب سے وجود میں آتے ہیں۔ ہم نفس امارہ کی ترغیب و تحریک سے جھوٹ بولتے ہیں، لیکن اس پر کسی نہ کسی وقت پچھتاتے بھی ہیں یہ پچھتانے کی کیفیت نفس لوامہ کے عمل سے طاری ہوتی ہے۔ نفس امارہ کا کام یہ ہے کہ وہ برائی کا راستہ دکھلائے۔ نفس لوامہ کا کام یہ ہے کہ وہ برائیوں پر ملامت کرے۔ مشہور نفسیات داں سگمنڈ فرائیڈ نے نفس امارہ اور نفس لوامہ کے بجائے اِڈ اور سپر ایگو کی اصطلاحیں ایجاد کی ہیں۔

اصطلاحوں میں الجھے بغیر تعمیر و تنظیم شخصیت کا بنیادی عمل یہ ہے کہ نفس امارہ (منفی ارادے) پر نفس لوامہ (ملامت کرنے والی قوت) کی گرفت کو مضبوط کرکے انسانی نفس کے اس اعلیٰ ترین حصے کو بروئے کار لایا جائے جسے قدیم علم النفس اور علم الاخلاق کی زبان میں ’’نفس ناطقہ‘‘ کہتے ہیں۔ نفس ناطقہ تمام عقل و دانش اور برتر اوصاف کا سرچشمہ ہے اور صرف انسان کے لیے مخصوص ہے۔ نفس ناطقہ کے سبب سے ہی انسان کو حیوان ناطق کہا جاتا ہے۔ حیوان میں نفس امارہ بھی ہوتا ہے، نفس لوامہ بھی، لیکن حیوان ناطق (انسان) نفس ناطقہ سے بھی آراستہ پیراستہ ہے، اور یہی اس کی فضیلت کی دلیل ہے۔

ہم انسان کے مثبت ارادے کو مضبوط بنانے، یعنی نفس لوامہ کو بروئے کار لانے کے لیے سانس کی مشقیں تجویز کرتے ہیں۔ انسانی نظام اعصاب کا سب سے بڑا مظہر سانس کا عمل ہے۔ ہماری دماغی اور ذہنی کیفیت کا سب سے پہلا اظہار سانس کی رفتار سے ہوتا ہے۔ شدید محویت کے عالم میں سانس کی رفتار دھیمی اور ہلکی ہوجاتی ہے اور ہیجان کی حالت میں سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگتا ہے۔ سانس کی مشق کا انسانی ذہن پر کیا اثر پڑتا ہے اور کیسے کیسے نادر تجربات ہوتے ہیں، اس کا اندازہ آپ کو ان تجربات سے گزرنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔

آپ نے تن سازی کا نام سنا ہوگا یعنی Body Building، جس میں مختلف مشقوں اور ریاضتوں اور داؤ پیچ کے ذریعے جسم کے رگ و پٹھوں کو مضبوط بنایا جاتا ہے۔ ملک بھر میں تن سازی یا باڈی بلڈنگ کے مختلف ادارے قائم ہیں اور فزیکل کلچر کے نام سے ایک تحریک ملک بھر میں چلائی جارہی ہے۔ پہلوانی اور تن سازی کی منظم تحریک کوئی نئی تحریک نہیں ہے، جب سے انسان اس کرۂ ارض پر موجود ہے وہ جسم کو مضبوط بنانے اور مردانگی، جوانمردی اور شہ زوری کی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتا رہا ہے۔

درحقیقت انسان کی پوری تاریخ ہی تن سازی اور تربیت جسم کے مختلف کارناموں پر مشتمل ہے۔ تن سازی کے دوش بدوش ذہن سازی کی تحریک بھی مختلف ناموں، مختلف عنوانوں اور مختلف مجاہدوں و ریاضتوں کے ذریعے دنیا کے ہر ملک میں رہی ہے، بلکہ ذہن سازی (سیلف کلچر ٹریننگ) کو تن سازی پر ہمیشہ بالادستی رہی ہے۔ کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ صرف ایک مضبوط، روشن اور توانا ذہن ہی طاقت ور جسم کو وجود میں لاسکتا ہے۔ آپ کا جسم مضبوط ہے مگر دماغ توانا نہیں، تو آپ ہاتھی، گھوڑے کی طرح ہیں کہ اتنے تن و توش کے باوجود یہ انسان ذہن کے محکوم ہیں۔

عام خیال یہ ہے کہ ہم مختلف ورزشوں کے ذریعے جسم کو مضبوط بناسکتے ہیں لیکن ذہن ایک ایسی خودمختار طاقت ہے کہ اسے اپنا محکوم نہیں بنایا جاسکتا۔ ذہن کو محکوم و مطیع بنانے کا مطلب کیا ہے؟ چند لفظوں میں اس کی وضاحت بھی کردی جائے۔ ذہن ایک ایسی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے جس پر ہمیشہ شعور کے مختلف قافلے اور مختلف لہریں ہماری مرضی اور ارادے کے بغیر رواں دواں رہتی ہیں۔ ہم میں یہ طاقت نہیں کہ ایک لمحے کے لیے بھی خیال کی کسی لہر کو روک سکیں۔ ذہنی عمل بڑا پیچیدہ عمل ہے۔

خیال یہ ہے کہ ایک سیکنڈ میں دو، یا ایک منٹ میں ایک سو بیس خیالات (جو ایک دوسرے سے گتھے ہوئے ہیں) ذہن سے گزر جاتے ہیں، اس کے معنی یہ ہیں کہ شعور ہر لمحہ حرکت اور جنبش میں رہتا ہے اور اس مسلسل حرکت اور لگاتار جنبش کے سبب بے شمار ذہنی توانائی خرچ ہوتی رہتی ہے۔ جسم کم قوت صرف کرتا ہے، ذہن زیادہ قوت صرف کرتا ہے۔ سائنسی تجربہ گاہوں میں جو ٹیسٹ کیے گئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ ایک گھنٹہ کی دماغی محنت چار گھنٹے تک پھاؤڑا چلانے، لکڑی چیرنے، بوجھ اٹھانے، ڈنڈ پیلنے، مگدر ہلانے اور بھاگ دوڑ میں جتنی توانائی صرف کرتے ہیں، ایک گھنٹے کی دماغی مشقت میں اتنی ہی یا اس سے زیادہ اعصابی توانائی خرچ ہوجاتی ہے۔

’’میں سوچتے سوچتے تھک گیا‘‘ یہ شاعرانہ فقرہ نہیں، حقیقت ہے اور جسمانی حقیقت۔ کردار سازی و تعمیر و تنظیم شخصیت کی ان مشقوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ شعور خیال اور توجہ کی فضول خرچی ختم کرکے ذہن کو بے دریغ اعصابی قوت کے اسراف سے روکا جائے اور انسانی ارادے کو اتنا مضبوط بنا دیا جائے کہ وہ جتنی دیر تک چاہے صرف ایک نقطے (Point) پر اپنی توجہ مرکوز رکھے، یعنی مشقوں کا بنیادی سبق ارتکاز توجہ (Concentration) کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ پریشان حال اور پراگندہ فکر آدمی زندگی کے کسی شعبے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، وہ ہمیشہ اپنے خیالوں، خوابوں اور تصورات کے جالے میں اسیر رہتا ہے۔ نفسیاتی صحت مندی کی بنیادی شرط ہے ارادے کی قوت۔

قوی ارادہ صرف اس وقت پیدا ہوسکتا ہے جب ہم ارتکاز توجہ کی قوت سے مالامال ہوں۔ جب ذہن پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ شدید ردعمل کا مظاہرہ کرتا ہے، اسی کو ’’لاشعوری مزاحمت‘‘ کہتے ہیں۔ نفسیاتی مریضوں میں یہ لاشعوری مزاحمت بے حد شدید ہوتی ہے، شخصیت دو حصوں میں بٹ جاتی ہے اور یہ دونوں حصے ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ نفسیاتی معالج بڑی نرمی، احتیاط اور سوجھ بوجھ کے ساتھ ترغیب و تلقین کے ذریعے رفتہ رفتہ ذہن کے دونوں کٹے ہوئے حصوں کے درمیان ’’حقیقت پسندی‘‘ کا پل بناتا ہے اور اس طرح جذباتی الجھنوں کے معقول حل کے راستے خودبخود پیدا ہوجاتے ہیں۔

شایان تمثیل

Tuesday, September 23, 2014

اوہ ہ ہ شِٹ!

0 comments


میاں بیوی بستر پر لیٹے سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ اچانک بیوی بولی 
بیوی: سنو ! کیا تم میرے مرنے کے بعد دوسری شادی کر لو گے ؟؟
شوہر: نہیں‌بیگم۔ تمہیں پتہ ہے میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ میں دوسری شادی نہیں کرونگا۔
بیوی: لیکن تم اتنی لمبی زندگی تنہا بھی تو نہیں‌گذار سکتے ۔ شادی تو تہمیں کرنا ہو گی
شوہر: دیکھا جائے گا ۔ اگر ضروری ہوا تو کر لوں گا!!
بیوی: (دکھ بھری آواز میں ) کیا تم واقعی دوسری شادی کر لو گے ؟
شوہر: بیگم ! ابھی تم خود ہی تو زور دے رہی تھی۔
بیوی: اچھا کیا تم اسے اسی گھر میں لاؤ گے ؟
شوہر: ہاں۔ میرا خیال ہے ہمارا گھر کافی بڑا ہے اور اسے یہیں رہنا ہو گا
بیوی: کیا تم اسے اسی کمرے میں رکھو گے
شوہر: ہاں کیونکہ یہی تو ہمارا بیڈ روم ہے
بیوی: کیا وہ اسی بیڈ پر سوئے گی
شوہر: بھئی بیگم ظاہر ہے اور کہاں سوئے گی
بیوی: اچھا کیا وہ میری جیولری استعمال کرے گی؟؟
شوہر: نہیں اس جیولری سے تمہاری سہانی یادیں وابستہ ہیں ۔ وہ یہ استمعال نہیں کرسکے گی
بیوی: اور میرے کپڑے ؟؟
شوہر: پیاری بیگم ! اگر مجھے شادی کرنا ہوئی تو وہ کپڑے بھی خود ہی لے کر آئے گی۔
بیوی: اور کیا وہ میری گاڑی بھی استعمال کرے گی ؟؟
شوہر: نہیں ۔ اسے گاڑی چلانا نہیں آتی۔ بہت دفعہ بولا لیکن وہ سیکھنا ہی نہیں چاہتی ۔
بیوی: کیاااااااااااااااااااااااااااااااااا ؟؟؟
شوہر: اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ شششٹ

Monday, September 22, 2014

کڑک روٹی!

0 comments

ڈاکٹر:آپ کے تین دانت کیسے ٹوٹے؟
مریض: وہ جی بیوی نے کڑک روٹی بنائی تھی۔
ڈاکٹر: تو کھانے سے انکار کر دیتے۔
مریض: جی وہی تو کیا تھا۔

بیوی کی ڈائری

0 comments
بیوی کی ڈائری 2006-10-10 
آج صبح میں نے اس سے (شوہر سے) شام 4 بجے باہر جا کر کافی پینے کا وعدہ کیا 
دفتر کے بعد اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کے لیے گئی تو کچھ دیر ہو گئی۔
مجھے احساس تھا کہ اسے انتظار کرنا گراں گذرتا ہے۔
لیکن میں نے سوچا سوری کر لوں گی۔
میں 15 منٹ لیٹ پہنچی تو وہ واقعی بہت پریشان دکھائی دے رہا تھا
میں نے سوری بولا اور اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کی وجہ بتائی۔
اس نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا۔
میں نے اسے کافی پینے کا وعدہ یاد دلایا۔ وہ جیسے بوجھل قدموں سے ساتھ ہو لیا۔
کافی ہاؤس میں بھی اسکی پریشانی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔
میں نے وجہ پوچھی تو جواب ملا “کچھ نہیں“
میں نے اعتراف کیا کہ غلطی میری ہی ہے۔ وہ خلا میں نظریں جمائے خاموش رہا۔
گھر واپس آتے ہوئے راستے میں میں نے اسکا ہاتھ دبا کر کہا “آئی لو یو“
پھر کوئی جواب نہیں۔
میں نے پوچھا “ڈارلنگ کیا تم بھی مجھ سے پیار کرتے ہو“
اس نے اقرار میں سر ہلا دیا۔ لیکن مجھے محسوس ہو گیا کہ یہ دکھاوا ہے۔
گھر پہنچ کر میں باتھ روم گئی۔ بیڈ روم میں آئی تو وہ کروٹ بدل کر سو چکا تھا۔
میں اکیلے بیٹھی دیر تک روتی رہی۔ 
اتنی چھوٹی سی غلطی میری زندگی کو جہنم بنا دے گی۔ کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی
اب تو زندگی کی ساری خوشیاں مٹتی نظر آ رہی تھیں۔
انہی اندھیروں کے خوف سے نہ جانے کب میں روتے روتے سو گئی۔
شوہر کی ڈائری 2006-10-10
آج پاکستان انڈیا کے خلاف فائنل ہا ر گیا۔
سارا دن بہت برا گذرا۔

Sunday, September 21, 2014

انٹرنیٹ کی رفتار کس طرح دُگنی کی جاسکتی ہے؟

0 comments

انٹرنیٹ کی رفتار کس طرح دُگنی کی جاسکتی ہے؟ میں نے یوٹیوب پر ڈبل اسپیڈ انٹرنیٹ کے بارے میں دیکھا ہے۔ کیا یہ واقعی ممکن ہے کہ ایک میگا بٹس کے انٹرنیٹ سے دو میگا بٹس کی رفتار حاصل کی جاسکے؟
........................................................................................

جواب:

انٹرنیٹ کی رفتار دُگنی یا بڑھانے کے حوالے سے کئے جانے والے دعوے جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان دعووں کا مقصد صرف توجہ اور زیادہ سے زیادہ وزٹرز حاصل کرنا ہوتا ہے۔ آپ اپنی ہی مثال لے لیجئے کہ انٹرنیٹ کی رفتار دُگنی کرنے کے لئے آپ نے یوٹیوب پر ویڈیو ملاحظہ کی۔ اکثر وائرس اور جان کا عذاب بن جانے والی ٹول بارز اسی طرح کے دعوے کرتی ہیں اور صارفین ان کے سبز باغ دیکھ کر جال میں پھنس جاتے ہیں۔
انٹرنیٹ کی جو رفتار (بینڈ وڈتھ) آپ کے انٹرنیٹ سروس پروائیڈر نے آپ کے لئے متعین کررکھی ہے، اس سے آپ تجاوز نہیں کرسکتے۔ یعنی اگر آپ نے ایک میگا بٹس کا کنکشن خرید رکھا ہے تو آپ اس سے کبھی بھی دو میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار حاصل نہیں کرسکتے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ان کمپنیوں کا کاروبار ہی بیٹھ جاتا!
البتہ کچھ ہدایات ایسی ہیں جن پر عمل کرکے آپ اپنے انٹرنیٹ کو زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کرسکتے ہیں۔ مثلاً جب آپ انٹرنیٹ استعمال کررہے ہوتے ہیں تو ونڈوز اپ ڈیٹ پیچز اور سکیوریٹی اپ ڈیٹس ڈائون لوڈ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جس سے آپ کے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہوسکتی ہے۔ اگر برائوزر اور سسٹم بذات خود سست رفتار ہوں تو انٹرنیٹ کی رفتار بھی سست محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے ٹیون اپ یوٹیلی ٹیز کی مدد سسٹم کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔
اگر آپ کے کمپیوٹر میں اسکائپ یا مسینجرز جیسی ایپلی کیشنز انسٹال ہیں تو یاد رکھیں، یہ سافٹ ویئر بھی انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال کرتے رہتے ہیں جو انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا ایک سبب ہوسکتی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ کی رفتار بہتر نہیں کیونکہ ٹورینٹس یا ڈائون لوڈنگ ویب سائٹس سے تیز رفتار سے ڈائون لوڈنگ نہیں ہورہی تو اس کی وجہ آپ کا انٹرنیٹ نہیں، بلکہ کچھ اور ہے۔ ڈائون لوڈنگ کی رفتار کو درجنوں چیزیں متاثر کرتی ہیں جن میں سے اکثر پر آپ کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ اس لئے اگلی بار جب آپ ایسا کوئی سافٹ ویئر دیکھیں جو کہ آپ کے انٹرنیٹ کی رفتار کو دُگنا کرنے کا دعویٰ کرے تو آپ اسے بالکل نظر انداز کردیں… ایسا قطعی ممکن نہیں!

یہ تحریر ماہنامہ کمپیوٹنگ سے لی گئی ہے۔


Saturday, September 20, 2014

موت کی دہلیز پر(جاوید چوہدری)

0 comments

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہوکار صرف ایک سوال کا جواب چاہتا تھا ’’میں خوش کیوں نہیں ہوں‘‘ وہ پانچ لفظوں کے اس سوال کی پوٹلی اٹھا کر بابا جی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا‘ بابا جی لنگوٹ باندھ کر جنگل میں بیٹھے تھے‘ ساہوکار نے سوال کیا ’’میں خوش کیوں نہیں ہوں‘‘ بابا جی نے سنا‘ قہقہہ لگایا اور اس سے پوچھا ’’تمہارے پاس قیمتی ترین چیز کون سی ہے‘‘ ساہوکار نے جواب دیا ’’میرے پاس نیلے رنگ کا ایک نایاب ہیرا ہے‘‘ بابا جی نے پوچھا ’’تم نے یہ ہیرا کہاں سے لیا تھا‘‘ ساہوکار نے جواب دیا ’’یہ ہیرا میری تین نسلوں کی کمائی ہے‘ میرے دادا حضور جو کماتے تھے‘ وہ اس سے سونا خرید لیتے تھے۔
دادا اپنا سونا میرے باپ کو دے گئے‘ باپ نے جو کمایا اس نے بھی اس سے سونا خریدا اور اپنا اور اپنے والد کا سونا جمع کر کے میرے حوالے کر دیا‘ میں نے بھی جو کچھ کمایا اسے سونے میں تبدیل کیا‘ اپنی تین نسلوں کا سونا جمع کیا اور اس سے نیلے رنگ کا ہیرا خرید لیا‘‘ بابا جی نے پوچھا ’’وہ ہیرا کہاں ہے‘‘ ساہو کار نے اپنی میلی کچیلی ٹوپی اتاری‘ ٹوپی کا استر پھاڑا‘ ہیرا ٹوپی کے اندر سِلا ہوا تھا‘ ساہوکار نے ہیرا نکال کر ہتھیلی پر رکھ لیا‘ ہیرا واقعی خوبصورت اور قیمتی تھا‘ ہیرا دیکھ کر باباجی کی آنکھوں میں چمک آ گئی‘ انھوں نے ساہو کار کی ہتھیلی سے ہیرا اٹھایا‘ اپنی مٹھی میں بند کیا۔
نعرہ لگایا اور ہیرا لے کر دوڑ لگا دی‘ ساہوکار کا دل ڈوب گیا‘ اس نے جوتے ہاتھ میں اٹھائے اور باباجی کو گالیاں دیتے ہوئے ان کے پیچھے دوڑ پڑا‘ بابا جی آگے تھے‘ ساہو کار‘ اس کی گالیاں اور اس کی بددعائیں باباجی کے پیچھے پیچھے تھیں اوران دونوں کے دائیں اور بائیں گھنا جنگل تھا اور جنگل کے پریشان حال جانور تھے‘ باباجی بھاگتے چلے گئے اور ساہو کار ان کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتا رہا‘ یہ لوگ صبح سے شام تک بھاگتے رہے یہاں تک کہ جنگل کا آخری کنارہ آ گیا‘ باباجی جنگل کی حد پر پہنچ کر برگد کے درخت پر چڑھ گئے۔
اب صورتحال یہ تھی‘ باباجی درخت کے اوپر بیٹھے تھے‘ ہیرا ان کی مٹھی میں تھا‘ ساہوکار الجھے ہوئے بالوں‘ پھٹی ہوئی ایڑھیوں اور پسینے میں شرابور جسم کے ساتھ درخت کے نیچے کھڑا تھا‘ وہ باباجی کو کبھی دھمکی دیتا تھا اور کبھی ان کی منتیں کرتا تھا‘ وہ درخت پر چڑھنے کی کوشش بھی کرتا تھا لیکن باباجی درخت کی شاخیں ہلا کر اس کی کوششیں ناکام بنا دیتے تھے‘ ساہو کار جب تھک گیا تو باباجی نے اس سے کہا ’’میں تمہیں صرف اس شرط پر ہیرا واپس کرنے کے لیے تیار ہوں‘ تم مجھے اپنا بھگوان مان لو‘‘ ساہو کار نے فوراً ہاتھ باندھے اور باباجی کی جے ہو کا نعرہ لگا دیا‘ باباجی نے مٹھی کھولی‘ ہیرا چٹکی میں اٹھایا اور ساہو کار کے پیروں میں پھینک دیا۔
ساہوکار کے چہرے پر چمک آ گئی‘ اس نے لپک کر ہیرا اٹھایا‘ پھونک مار کر اسے صاف کیا‘ ٹوپی میں رکھا اور دیوانوں کی طرح قہقہے لگانے لگا‘ باباجی درخت سے اترے‘ ساہوکار کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ’’ہم صرف اس وقت خوش ہوتے ہیں جب ہمیں کھوئی ہوئی نعمتیں واپس ملتی ہیں‘ تم اپنی طرف دیکھو‘ تم اس وقت کتنے خوش ہو‘‘ ساہوکار نے اپنے قہقہوں پر توجہ دی‘ تھوڑا سا سوچا اور اس کے بعد پوچھا ’’حضور میں سمجھا نہیں‘‘ باباجی نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیروں کی طرح ہوتی ہیں‘ ہم نعمتوں کے ہیروں کو ٹوپیوں میں سی کر پھرتے رہتے ہیں‘ ہم ان کی قدر و قیمت بھول جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ایک دن ہم سے یہ نعمتیں چھین لیتا ہے‘ ہمیں اس دن پہلی بار ان نعمتوں کے قیمتی ہونے کا اندازہ ہوتا ہے‘ ہم اس کے بعد چھینی ہوئی نعمتوں کے پیچھے اس طرح دیوانہ وار دوڑتے ہیں جس طرح تم ہیرے کے لیے میرے پیچھے بھاگے تھے‘ ہم نعمتوں کے دوبارہ حصول کے لیے اس قدر دیوانے ہو جاتے ہیں کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کو بھگوان تک مان لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کو پھر ایک دن ہم میں سے کچھ لوگوں پر رحم آ جاتا ہے اور وہ ہماری نعمت ہمیں لوٹا دیتا ہے اور ہمیں جوں ہی وہ نعمت دوبارہ ملتی ہے ہم خوشی سے چھلانگیں لگانے لگتے ہیں‘‘ بابا جی نے اس کے بعد قہقہہ لگایا اور فرمایا ’’تم صرف اس لیے اداس تھے کہ تم نے نعمتوں کے دوبارہ حصول کا تجربہ نہیں کیا تھا‘ تمہیں نعمتوں کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں تھا‘ تم اب ان چیزوں‘ ان نعمتوں کی قدر کا اندازہ لگا چکے ہو جو تمہارے پاس موجود ہیں چنانچہ اب تم کبھی اداس نہیں ہو گے‘ تم خوش رہو گے‘‘۔
میں نے یہ واقعہ برسوں پہلے پڑھا لیکن یہ آج اچانک یاد آ گیا‘ یہ کیوں یاد آ گیا؟ اس کی وجہ گارڈین اخبار کی ایک ریسرچ تھی‘ اخبار کے ایک رپورٹر نے آخری سانس لیتے ہوئے مریضوں کی آخری خواہشات جمع کیں‘ یہ بے شمار مرتے ہوئے لوگوں سے ملا اور ان ملاقاتوں کی روشنی میں اس نے اپنی ریسرچ مکمل کی‘ ریسرچ کے مطابق مرنے والوں میں پانچ خواہشیں ’’کامن‘‘ تھیں‘ ان کا کہنا تھا ’’ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی میں جو عنایت کیا تھا‘ ہم اسے فراموش کر کے ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہے جو ہمارے نصیب میں نہیں تھیں۔
اللہ تعالیٰ اگر ہماری زندگی میں اضافہ کر دے یا یہ ہمیں دوبارہ زندگی دے دے تو ہم صرف ان نعمتوں کو انجوائے کریں گے جو ہمیں حاصل ہیں‘ ہم زیادہ کے بجائے کم پر خوش رہیں گے‘‘ ان کا کہنا تھا‘ ہم نے پوری زندگی لوگوں کو ناراض کرتے اور لوگوں سے ناراض ہوتے گزار دی‘ ہم بچپن میں اپنے والدین‘ اپنے ہمسایوں‘ اپنے کلاس فیلوز اور اپنے اساتذہ کو تنگ کرتے تھے‘ ہم جوانی میں لوگوں کے جذبات سے کھیلتے رہے اور ہم ادھیڑ عمر ہو کر اپنے ماتحتوں کو تکلیف اور سینئرز کو چکر دیتے رہے‘ ہم دوسروں کے ٹائر کی بلاوجہ ہوا نکال دیتے تھے‘ دوسروں کی گاڑیوں پر خراشیں لگا دیتے تھے اور شہد کے چھتوں پر پتھر مار دیتے تھے‘ ہم بہن بھائیوں اور بیویوں کے حق مار کر بیٹھے رہے‘ ہم لوگوں پر بلاتصدیق الزام لگاتے رہے۔
ہم نے زندگی میں بے شمار لوگوں کے کیریئر تباہ کیے‘ ہم اہل لوگوں کی پروموشن روک کر بیٹھے رہتے تھے اور ہم نااہل لوگوں کو پروموٹ کرتے تھے‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی مل جائے تو ہم عمر بھر کسی کو تکلیف دیں گے اور نہ ہی کسی سے تکلیف لیں گے‘ ہم ناراض ہوں گے اور نہ ہی کسی کو ناراض کریں گے‘‘ زندگی کی آخری سیڑھی پر بیٹھے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہماری مذہب کے بارے میں اپروچ بھی غلط تھی‘ ہم زندگی بھر لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتے رہے‘ ہم انھیں دوزخی یا جنتی قرار دیتے رہے۔
ہم مسلمان ہیں تو ہم باقی مذاہب کے لوگوں کو کافر سمجھتے رہے اور ہم اگر یہودی اور عیسائی ہیں تو ہم نے زندگی بھر مسلمانوں کو برا سمجھا‘ ہم آج جب زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے دنیا کا ہر شخص ایک ہی جگہ سے دنیا میں آتا ہے اور وہ ایک ہی جگہ واپس جاتا ہے‘ ہم ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں اور قبر کے اندھیرے میں گم ہو جاتے ہیں‘ ہمیں اگر آج دوبارہ زندگی مل جائے یا اللہ تعالیٰ ہماری عمر میں اضافہ کر دے تو ہم مذہب کو کبھی تقسیم کا ذریعہ نہیں بنائیں گے‘ ہم لوگوں کو آپس میں توڑیں گے نہیں‘ جوڑیں گے‘ ہم دنیا بھر کے مذاہب سے اچھی عادتیں‘ اچھی باتیں کشید کریں گے اور ایک گلوبل مذہب تشکیل دیں گے۔
ایک ایسا مذہب جس میں تمام لوگ اپنے اپنے عقائد پر کاربند رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور دنیا میں مذہب کی بنیاد پر کوئی جنگ نہ ہو‘ آخری سانسیں گنتے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہم نے زندگی بھر فضول وقت ضایع کیا‘ ہم پوری زندگی بستر پر لیٹ کر چھت ناپتے رہے‘ کرسیوں پر بیٹھ کر جمائیاں لیتے رہے اور ساحلوں کی ریت پر لیٹ کر خارش کرتے رہے‘ ہم نے اپنی دو تہائی زندگی فضول ضایع کر دی‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی ملے تو ہم زندگی کے ایک ایک لمحے کو استعمال کریں گے‘ ہم کم سوئیں گے‘ کم کھائیں گے اور کم بولیں گے۔
ہم دنیا میں ایسے کام کریں گے جو دوسرے انسانوں کی زندگیوں کو آسان بنائیں‘ جو محروم لوگوں کو فائدہ پہنچائیں اور زندگی کی آخری سیڑھی پر بیٹھے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہم عمر بھر پیسہ خرچ کرتے رہے لیکن ہم اس کے باوجود اپنی کمائی کا صرف 30 فیصد خرچ کر سکے‘ ہم اب چند دنوں میں دوزخ یا جنت میں ہوں گے لیکن ہماری کمائی کا ستر فیصد حصہ بینکوں میں ہو گا یا پھر یہ دولت ہماری نالائق اولاد کو ترکے میں مل جائے گی‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی ملی تو ہم اپنی دولت کا ستر فیصد حصہ ویلفیئر میں خرچ کریں گے‘ ہم مرنے سے قبل اپنی رقم چیریٹی کر جائیں گے۔
یہ مرنے والے لوگوں کی زندگی کا حاصل تھا‘ یہ زندگی میں خوشی حاصل کرنے کے پانچ راز بھی ہیں لیکن انسانوں کو یہ راز زندگی میں سمجھ نہیں آتے‘ ہم انسان یہ راز اس وقت سمجھتے ہیں جب ہم موت کی دہلیز پر کھڑے ہوتے ہیں‘ جب ہمارے ہاتھ سے زندگی کی نعمت نکل جاتی ہے‘ انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے‘ اس کی آنکھ اس وقت تک نہیں کھلتی جب تک اس کی آنکھیں مستقل طور پر بند نہیں ہو جاتیں اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ آنکھیں کھولنے کے لیے آنکھوں کے بند ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

Don't Belive EveryThing You Hear

0 comments
Don't Belive EveryThing You Hear.
There Are Always Three Sides To A Story,
Yours
Theirs
And
The Trurh!

Thursday, September 18, 2014

Healthy Relationship

0 comments

Good Time & Crazy Friends

0 comments

خدا کی رضا کی نشانی

0 comments