Saturday, September 20, 2014

موت کی دہلیز پر(جاوید چوہدری)

0 comments

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہوکار صرف ایک سوال کا جواب چاہتا تھا ’’میں خوش کیوں نہیں ہوں‘‘ وہ پانچ لفظوں کے اس سوال کی پوٹلی اٹھا کر بابا جی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا‘ بابا جی لنگوٹ باندھ کر جنگل میں بیٹھے تھے‘ ساہوکار نے سوال کیا ’’میں خوش کیوں نہیں ہوں‘‘ بابا جی نے سنا‘ قہقہہ لگایا اور اس سے پوچھا ’’تمہارے پاس قیمتی ترین چیز کون سی ہے‘‘ ساہوکار نے جواب دیا ’’میرے پاس نیلے رنگ کا ایک نایاب ہیرا ہے‘‘ بابا جی نے پوچھا ’’تم نے یہ ہیرا کہاں سے لیا تھا‘‘ ساہوکار نے جواب دیا ’’یہ ہیرا میری تین نسلوں کی کمائی ہے‘ میرے دادا حضور جو کماتے تھے‘ وہ اس سے سونا خرید لیتے تھے۔
دادا اپنا سونا میرے باپ کو دے گئے‘ باپ نے جو کمایا اس نے بھی اس سے سونا خریدا اور اپنا اور اپنے والد کا سونا جمع کر کے میرے حوالے کر دیا‘ میں نے بھی جو کچھ کمایا اسے سونے میں تبدیل کیا‘ اپنی تین نسلوں کا سونا جمع کیا اور اس سے نیلے رنگ کا ہیرا خرید لیا‘‘ بابا جی نے پوچھا ’’وہ ہیرا کہاں ہے‘‘ ساہو کار نے اپنی میلی کچیلی ٹوپی اتاری‘ ٹوپی کا استر پھاڑا‘ ہیرا ٹوپی کے اندر سِلا ہوا تھا‘ ساہوکار نے ہیرا نکال کر ہتھیلی پر رکھ لیا‘ ہیرا واقعی خوبصورت اور قیمتی تھا‘ ہیرا دیکھ کر باباجی کی آنکھوں میں چمک آ گئی‘ انھوں نے ساہو کار کی ہتھیلی سے ہیرا اٹھایا‘ اپنی مٹھی میں بند کیا۔
نعرہ لگایا اور ہیرا لے کر دوڑ لگا دی‘ ساہوکار کا دل ڈوب گیا‘ اس نے جوتے ہاتھ میں اٹھائے اور باباجی کو گالیاں دیتے ہوئے ان کے پیچھے دوڑ پڑا‘ بابا جی آگے تھے‘ ساہو کار‘ اس کی گالیاں اور اس کی بددعائیں باباجی کے پیچھے پیچھے تھیں اوران دونوں کے دائیں اور بائیں گھنا جنگل تھا اور جنگل کے پریشان حال جانور تھے‘ باباجی بھاگتے چلے گئے اور ساہو کار ان کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتا رہا‘ یہ لوگ صبح سے شام تک بھاگتے رہے یہاں تک کہ جنگل کا آخری کنارہ آ گیا‘ باباجی جنگل کی حد پر پہنچ کر برگد کے درخت پر چڑھ گئے۔
اب صورتحال یہ تھی‘ باباجی درخت کے اوپر بیٹھے تھے‘ ہیرا ان کی مٹھی میں تھا‘ ساہوکار الجھے ہوئے بالوں‘ پھٹی ہوئی ایڑھیوں اور پسینے میں شرابور جسم کے ساتھ درخت کے نیچے کھڑا تھا‘ وہ باباجی کو کبھی دھمکی دیتا تھا اور کبھی ان کی منتیں کرتا تھا‘ وہ درخت پر چڑھنے کی کوشش بھی کرتا تھا لیکن باباجی درخت کی شاخیں ہلا کر اس کی کوششیں ناکام بنا دیتے تھے‘ ساہو کار جب تھک گیا تو باباجی نے اس سے کہا ’’میں تمہیں صرف اس شرط پر ہیرا واپس کرنے کے لیے تیار ہوں‘ تم مجھے اپنا بھگوان مان لو‘‘ ساہو کار نے فوراً ہاتھ باندھے اور باباجی کی جے ہو کا نعرہ لگا دیا‘ باباجی نے مٹھی کھولی‘ ہیرا چٹکی میں اٹھایا اور ساہو کار کے پیروں میں پھینک دیا۔
ساہوکار کے چہرے پر چمک آ گئی‘ اس نے لپک کر ہیرا اٹھایا‘ پھونک مار کر اسے صاف کیا‘ ٹوپی میں رکھا اور دیوانوں کی طرح قہقہے لگانے لگا‘ باباجی درخت سے اترے‘ ساہوکار کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ’’ہم صرف اس وقت خوش ہوتے ہیں جب ہمیں کھوئی ہوئی نعمتیں واپس ملتی ہیں‘ تم اپنی طرف دیکھو‘ تم اس وقت کتنے خوش ہو‘‘ ساہوکار نے اپنے قہقہوں پر توجہ دی‘ تھوڑا سا سوچا اور اس کے بعد پوچھا ’’حضور میں سمجھا نہیں‘‘ باباجی نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیروں کی طرح ہوتی ہیں‘ ہم نعمتوں کے ہیروں کو ٹوپیوں میں سی کر پھرتے رہتے ہیں‘ ہم ان کی قدر و قیمت بھول جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ایک دن ہم سے یہ نعمتیں چھین لیتا ہے‘ ہمیں اس دن پہلی بار ان نعمتوں کے قیمتی ہونے کا اندازہ ہوتا ہے‘ ہم اس کے بعد چھینی ہوئی نعمتوں کے پیچھے اس طرح دیوانہ وار دوڑتے ہیں جس طرح تم ہیرے کے لیے میرے پیچھے بھاگے تھے‘ ہم نعمتوں کے دوبارہ حصول کے لیے اس قدر دیوانے ہو جاتے ہیں کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کو بھگوان تک مان لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کو پھر ایک دن ہم میں سے کچھ لوگوں پر رحم آ جاتا ہے اور وہ ہماری نعمت ہمیں لوٹا دیتا ہے اور ہمیں جوں ہی وہ نعمت دوبارہ ملتی ہے ہم خوشی سے چھلانگیں لگانے لگتے ہیں‘‘ بابا جی نے اس کے بعد قہقہہ لگایا اور فرمایا ’’تم صرف اس لیے اداس تھے کہ تم نے نعمتوں کے دوبارہ حصول کا تجربہ نہیں کیا تھا‘ تمہیں نعمتوں کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں تھا‘ تم اب ان چیزوں‘ ان نعمتوں کی قدر کا اندازہ لگا چکے ہو جو تمہارے پاس موجود ہیں چنانچہ اب تم کبھی اداس نہیں ہو گے‘ تم خوش رہو گے‘‘۔
میں نے یہ واقعہ برسوں پہلے پڑھا لیکن یہ آج اچانک یاد آ گیا‘ یہ کیوں یاد آ گیا؟ اس کی وجہ گارڈین اخبار کی ایک ریسرچ تھی‘ اخبار کے ایک رپورٹر نے آخری سانس لیتے ہوئے مریضوں کی آخری خواہشات جمع کیں‘ یہ بے شمار مرتے ہوئے لوگوں سے ملا اور ان ملاقاتوں کی روشنی میں اس نے اپنی ریسرچ مکمل کی‘ ریسرچ کے مطابق مرنے والوں میں پانچ خواہشیں ’’کامن‘‘ تھیں‘ ان کا کہنا تھا ’’ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی میں جو عنایت کیا تھا‘ ہم اسے فراموش کر کے ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہے جو ہمارے نصیب میں نہیں تھیں۔
اللہ تعالیٰ اگر ہماری زندگی میں اضافہ کر دے یا یہ ہمیں دوبارہ زندگی دے دے تو ہم صرف ان نعمتوں کو انجوائے کریں گے جو ہمیں حاصل ہیں‘ ہم زیادہ کے بجائے کم پر خوش رہیں گے‘‘ ان کا کہنا تھا‘ ہم نے پوری زندگی لوگوں کو ناراض کرتے اور لوگوں سے ناراض ہوتے گزار دی‘ ہم بچپن میں اپنے والدین‘ اپنے ہمسایوں‘ اپنے کلاس فیلوز اور اپنے اساتذہ کو تنگ کرتے تھے‘ ہم جوانی میں لوگوں کے جذبات سے کھیلتے رہے اور ہم ادھیڑ عمر ہو کر اپنے ماتحتوں کو تکلیف اور سینئرز کو چکر دیتے رہے‘ ہم دوسروں کے ٹائر کی بلاوجہ ہوا نکال دیتے تھے‘ دوسروں کی گاڑیوں پر خراشیں لگا دیتے تھے اور شہد کے چھتوں پر پتھر مار دیتے تھے‘ ہم بہن بھائیوں اور بیویوں کے حق مار کر بیٹھے رہے‘ ہم لوگوں پر بلاتصدیق الزام لگاتے رہے۔
ہم نے زندگی میں بے شمار لوگوں کے کیریئر تباہ کیے‘ ہم اہل لوگوں کی پروموشن روک کر بیٹھے رہتے تھے اور ہم نااہل لوگوں کو پروموٹ کرتے تھے‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی مل جائے تو ہم عمر بھر کسی کو تکلیف دیں گے اور نہ ہی کسی سے تکلیف لیں گے‘ ہم ناراض ہوں گے اور نہ ہی کسی کو ناراض کریں گے‘‘ زندگی کی آخری سیڑھی پر بیٹھے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہماری مذہب کے بارے میں اپروچ بھی غلط تھی‘ ہم زندگی بھر لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتے رہے‘ ہم انھیں دوزخی یا جنتی قرار دیتے رہے۔
ہم مسلمان ہیں تو ہم باقی مذاہب کے لوگوں کو کافر سمجھتے رہے اور ہم اگر یہودی اور عیسائی ہیں تو ہم نے زندگی بھر مسلمانوں کو برا سمجھا‘ ہم آج جب زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے دنیا کا ہر شخص ایک ہی جگہ سے دنیا میں آتا ہے اور وہ ایک ہی جگہ واپس جاتا ہے‘ ہم ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں اور قبر کے اندھیرے میں گم ہو جاتے ہیں‘ ہمیں اگر آج دوبارہ زندگی مل جائے یا اللہ تعالیٰ ہماری عمر میں اضافہ کر دے تو ہم مذہب کو کبھی تقسیم کا ذریعہ نہیں بنائیں گے‘ ہم لوگوں کو آپس میں توڑیں گے نہیں‘ جوڑیں گے‘ ہم دنیا بھر کے مذاہب سے اچھی عادتیں‘ اچھی باتیں کشید کریں گے اور ایک گلوبل مذہب تشکیل دیں گے۔
ایک ایسا مذہب جس میں تمام لوگ اپنے اپنے عقائد پر کاربند رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور دنیا میں مذہب کی بنیاد پر کوئی جنگ نہ ہو‘ آخری سانسیں گنتے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہم نے زندگی بھر فضول وقت ضایع کیا‘ ہم پوری زندگی بستر پر لیٹ کر چھت ناپتے رہے‘ کرسیوں پر بیٹھ کر جمائیاں لیتے رہے اور ساحلوں کی ریت پر لیٹ کر خارش کرتے رہے‘ ہم نے اپنی دو تہائی زندگی فضول ضایع کر دی‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی ملے تو ہم زندگی کے ایک ایک لمحے کو استعمال کریں گے‘ ہم کم سوئیں گے‘ کم کھائیں گے اور کم بولیں گے۔
ہم دنیا میں ایسے کام کریں گے جو دوسرے انسانوں کی زندگیوں کو آسان بنائیں‘ جو محروم لوگوں کو فائدہ پہنچائیں اور زندگی کی آخری سیڑھی پر بیٹھے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہم عمر بھر پیسہ خرچ کرتے رہے لیکن ہم اس کے باوجود اپنی کمائی کا صرف 30 فیصد خرچ کر سکے‘ ہم اب چند دنوں میں دوزخ یا جنت میں ہوں گے لیکن ہماری کمائی کا ستر فیصد حصہ بینکوں میں ہو گا یا پھر یہ دولت ہماری نالائق اولاد کو ترکے میں مل جائے گی‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی ملی تو ہم اپنی دولت کا ستر فیصد حصہ ویلفیئر میں خرچ کریں گے‘ ہم مرنے سے قبل اپنی رقم چیریٹی کر جائیں گے۔
یہ مرنے والے لوگوں کی زندگی کا حاصل تھا‘ یہ زندگی میں خوشی حاصل کرنے کے پانچ راز بھی ہیں لیکن انسانوں کو یہ راز زندگی میں سمجھ نہیں آتے‘ ہم انسان یہ راز اس وقت سمجھتے ہیں جب ہم موت کی دہلیز پر کھڑے ہوتے ہیں‘ جب ہمارے ہاتھ سے زندگی کی نعمت نکل جاتی ہے‘ انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے‘ اس کی آنکھ اس وقت تک نہیں کھلتی جب تک اس کی آنکھیں مستقل طور پر بند نہیں ہو جاتیں اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ آنکھیں کھولنے کے لیے آنکھوں کے بند ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

Don't Belive EveryThing You Hear

0 comments
Don't Belive EveryThing You Hear.
There Are Always Three Sides To A Story,
Yours
Theirs
And
The Trurh!

Thursday, September 18, 2014

Healthy Relationship

0 comments

Good Time & Crazy Friends

0 comments

خدا کی رضا کی نشانی

0 comments

مقصد حیات اور یقین کامل

0 comments

آپ کے ذہن میں خیالات کی جتنی لہریں پیدا ہوتی ہیں وہ ذہن کل کے ذریعے تمام کائنات میں سرائیت کرجاتی ہیں۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ آپ کا ہر خیال تمام ماحول پر اثر انداز ہو کر اشیا اور اشخاص دونوں کو متاثر کرتا ہے، تاآنکہ درخت تک آپ کے خیالات کی لہروں کے اثرات قبول کرنے اور ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر خیال صحت مند اور تعمیری ہوگا تو اس کے اثرات بھی مفید اور اطمینان بخش ہوں گے اور اگر خیالات کی نوعیت تخریبی اور منفی ہوگی تو اس کے اثرات خود آپ کے لیے تباہ کن ہوں گے اور دوسرے کمزور دماغوں کو بھی زہر آلود کردیں گے۔
سب سے پہلے آپ کو اپنے ذہن میں کسی ایسے مقصد حیات کا تعین کرنا چاہیے جو ولولہ بخش اور حوصلہ افزا ہو۔ ایسا مقصد حیات جو آپ کے لیے اور دوسروں کے لیے نقصان رسا نہ ہو، مثلاً جائز ذرائع سے دولت کمانے کی آرزو، یہ آرزو ہرگز بری نہیں بشرطیکہ زر اندوزی اور کسب دولت کا مقصد ضرورت مندوں کی امداد ہو، ان کا استحصال نہ ہو۔ اگر آپ استحصالی جذبے کے ساتھ زر اندوزی میں مبتلا ہیں تو خود کو بھی تباہ کررہے ہیں (روحانی حیثیت سے بھی جسمانی حیثیت سے بھی) اور اس معاشرے میں بھی زہر گھول رہے ہیں جس کے آپ رکن ہیں۔ آپ اپنی زندگی کا ایسا نصب العین متعین کریں جو آپ کے لیے،گھر والوں کے لیے، محلے والوں کے لیے، شہر، وطن اور قوم کے لیے اور پوری انسانیت کے لیے منفعت بخش اور مسرت آفریں ہو۔
قدیم یونانیوں نے اپنا مقصد حیات، مسرت حیات کو قرار دیا تھا۔ کسی شخص کو ذاتی طور پر مسرت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک اس کے ماحول میں، معاشرے میں خوشی اور خوشحالی کے پھول کھلے ہوئے نہ ہوں۔ یونانیوں کی مسرت حیات کا مقصد راحت ذاتی اور عشرت شخصی نہ تھا، مسرت اجتماعی تھا۔ آپ بڑے تاجر بننا چاہتے ہیں، آپ کی کوشش یہ ہے کہ آپ اعلیٰ درجے کے سائنس داں تسلیم کیے جائیں، آپ کی تمنا یہ ہے کہ آپ کو درجہ اول کا شاعر و ادیب یا سیاست داں تسلیم کیا جائے، یہ آرزوئیں، یہ خواہشیں اور یہ تمنائیں فطری اور طبعی ہیں، ان کے حصول کی کوشش گناہ نہیں ثواب ہے، شر نہیں خیر ہے۔ مگر ان خواہشوں کے ساتھ اجتماعی بہبود کا مقصد بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔ صرف اسی طرح ایک حیوان کی سطح سے بلند ہوکر آپ انسان کامل کی سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔
جس طرح آپ کا ذہن ’’ذہن کل‘‘ کی وساطت سے تمام مخلوقات کے ذہنوں سے جڑا ہوا ہے، اسی طرح آپ کی روح بھی، روح مطلق کی وساطت سے کائنات کی تمام ارواح سے مربوط ہے۔ آپ کی روحانی کیفیت دوسروں کی روحوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، آپ کا ذہن دوسروں کے ذہن کو بھی مسرت و سعادت بخش سکتا ہے، یا اپنے غلط تاثرات سے دوسرے ذہنوں کو زخمی اور مجروح بھی کرسکتا ہے۔ لہٰذا آپ کا مقصد حیات ایسا ہونا چاہیے جو نوع انسانی کے لیے مفید و صحت بخش ہو۔
اپنے مقصد حیات کی سمت مقرر کرلینے کے بعد (مثلاً مجھے دولت مند بننا ہے) وہ ہدف اور نشانہ بھی مقرر کرلیجیے جس کو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں، مثلاً آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ مجھے ایک یا دو سال کے اندر بہرقیمت پانچ، دس لاکھ روپے جمع کرنے ہیں، تو اپنے ذہن میں دو سال کی مدت اور دس لاکھ روپے کی دولت کا تصور نہایت مضبوطی سے قائم کرلیجیے۔ اور پھر جائز طریقے سے دولت کے حصول کا ایک لائحہ عمل تیار کریں جس پر عمل پیرا ہو کر آپ اپنا مقصد پاسکتے ہیں۔
درحقیقت اصل شے ہے یقین۔ آپ کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ آپ قدرت کے بحر بیکراں کا ایک قطرہ ہیں۔ اور اس قطرے کی جو خواہش ہے، خود بحر بیکراں کی خواہش و آرزو بھی وہی ہے۔ آپ یقین کامل سے اپنے لیے جو کچھ چاہیں گے، قدرت کی طرف سے وہی عطا ہوجائے گا۔ آپ کے اندر ایک ایسی پراسرار غیبی قوت موجود ہے جو آپ کی خاطر ہر کام سرانجام دے سکتی ہے اور جو ہر وقت آپ کی مدد کے لیے آمادہ اور بے چین رہتی ہے۔ اس غیبی قوت سے کام لینے کا طریقہ کیا ہے؟
آپ کی کامیابی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ زندگی میں آپ کا کوئی نصب العین ہو، اور آپ کی یہ خواہش کسی ایسی چیز کے لیے ہونی چاہیے جس کے حصول سے آپ کو انتہا درجے کی مسرت نصیب ہو۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی کامیابی اور خوشحالی سے مالا مال ہو تو ایک سفید کاغذ پر اہمیت کے لحاظ سے وہ چیزیں نمبر وار لکھیں جو آپ درحقیقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس بات سے قطعاً نہ گھبرائیں کہ آپ کی فہرست لمبی ہورہی ہے۔ آپ اپنی صحیح اور حقیقی خواہش کو یکے بعد دیگرے لکھتے چلے جائیں۔ ہر روز اس فہرست میں جی چاہے تو تبدیلیاں کریں، حتیٰ کہ آخر میں آپ کی نہ تبدیل ہونے والی خواہشوں کی فہرست بن جائے۔ آپ ان تبدیلیوں کے سبب حوصلہ نہ ہاریں، کیونکہ شروع شروع میں اپنی خواہشوں کا تعین کرتے وقت ایسا ضرور ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ جوں جوں آپ کامیاب ہوتے چلے جائیں گے، نئی نئی خواہشیں دل میں پیدا ہوں گی اور نئی نئی کامیابیاں حاصل ہوں گی۔ کامیابی حاصل کرنے کے چار اصول اٹل ہیں۔ (1) صبح، دوپہر اور شب میں تین مرتبہ باقاعدگی کے ساتھ اپنی فہرست مقاصد کو کامل یکسوئی اور مضبوط توجہ کے ساتھ پڑھیں۔ (2) ان تین اوقات کے علاوہ جب بھی آپ کو موقع ملے، ان چیزوں پر توجہ مرکوز کریں اور اپنے ذہن میں اس فہرست کو غور اور انہماک کے ساتھ دہرائیں۔
(3) سونے سے پہلے آنکھیں بند کرکے عالم تصور میں یہ دیکھیں کہ آپ کو وہ چیزیں حاصل ہوچکی ہیں جن کی آپ نے خواہش کی تھی، مثلاً اگر آپ دولت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عالم تصور میں یہ دیکھیے کہ آپ کے ہاتھوں میں نوٹوں کی گڈیاں ہیں اور پھر اس تصور کے ساتھ سوجائیں۔ (4) جب تک آپ کو اس عمل کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہ ہوجائیں، آپ ان تمام باتوں کو راز میں رکھیے اور کسی سے ان کا ذکر نہ کیجیے۔ اس عمل کے دوران آپ اپنے لاشعور (جو حیرت انگیز قوتوں کا مخزن ہے) اور اس ذہن کل پر پورا بھروسہ کریں جو پوری کائنات کی سمجھ بوجھ کا منبع اور سرچشمہ ہے۔ اس میں کوئی شبہ ہی نہیں کہ یہ ذہن کل ہر مرحلہ دشوار میں رہنمائی کرکے آپ کو منزل مقصود تک پہنچادے گا۔
اور سب سے آخری مرحلہ حقیقی عمل کا ہے۔ یہ سب کیسے ہوگا؟ صرف خیالی کامیابی تک پہنچنا آپ کا مقصود نہیں بلکہ حقیقی کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے کی مزید وضاحت اگلے کالم میں پیش کریں گے۔
شایان تمثیل

Pistachio Shell Necklice

0 comments

Make Your Own Real Drawing

0 comments

عقلمند اور بے وقوف میں فرق!

0 comments

دعا کی دستک

0 comments